بھٹکل ،16 ؍مئی (ایس او نیوز)بحیرہء عرب کے جنوب مشرقی حصے میں ہوا کے دباو میں کمی کے ساتھ اٹھنے والے 'ٹاوکتے' طوفان نے کیرالہ سمیت ساحلی کرناٹکا میں بڑی تباہی مچادی ہے۔ اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ جبکہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق یہ طوفان 18 مئی تک جاری رہے گا جو کہ کرناٹکا سے گزر کر گوا اور مہاراشٹرا سے ہوتا ہوا گجرات تک جائے گا اور وہاں سے کراچی کی طرف بڑھے گا۔ ٹاوکتے طوفان کی وجہ سے آج اتوار کو بھی صبح سے بھٹکل سمیت ساحلی علاقوں میں طوفانی ہواوں کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ: 'ٹاوکتے' طوفان کی آمد اور تباہ کاری کو سامنے رکھتے ہوئے دو دن پہلے ہی محکمہ موسمیات نے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا۔ جس کی وجہ سے ماہی گیروں نے اپنی کشتیوں کو محفوظ مقامات پر لنگر انداز کردیا تھا اس کے باوجود شمالی کینرا کی بیت کول بندرگاہ میں تیز ہواوں کی وجہ سے اب تک 4 کشتیوں کو نقصان پہنچنے کی خبر ہے۔ جبکہ کاروار کے رویندرا ناتھ ٹیگور بیچ، ماجالی، دیو باغ وغیرہ علاقوں میں تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور سمندری لہریں پوری طاقت کے ساتھ ساحل سے ٹکرا رہی ہیں۔
بھٹکل کی صورت حال: بھٹکل میں طوفان اور بارش کی وجہ سے عام زندگی بری طرح متاثرہوئی ہے ۔ 60 سے 70 کیلو میٹر کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواوں نے مختلف مقامات پر تباہی مچائی ہے۔ ایک طرف شہری علاقے میں چھتیں اڑجانے ، درخت اور بجلی کے کھمبے زمین سے اکھڑنے کے واقعات پیش آئے ہیں تو دوسری طرف سمندری کناروں پر رہنے والوں کے لئے حالات خطرناک ہوگئے ہیں۔ جالی، تالگوڈ، تنگن گنڈی جیسے علاقوں میں طوفان کا قہر دکھائی دے رہا ہے۔ گھروں، کھیتوں اور باغات اور کھیتوں کے اندر سمندری پانی گھس آیا ہے۔ بیلکے،ماوینکوروے کےعلاوہ تعلقہ کے مختلف مقامات پر گھروں اور باغات کو نقصان پہنچنے کی خبریں مل رہی ہیں۔
طوفانی ہواوں اور بارش سے گلمی اور منڈلی میں ایک ایک مکان کی چھت کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ جالی روڈ، شڈگولی ہونڈا میں دو مکانوں اور بینگرے ششی ہتلو میں تین مکانوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔ بھٹکل مدینہ کالونی سے ملی اطلاع کے مطابق طوفانی ہواوں کے نتیجے میں ایک عمارت کی بڑی چھت اُڑ کر الیکٹرک وائر پر جاگری جس سے پورے علاقے میں بجلی منقطع ہوگئی ۔ یہاں پی ایف آئی کے کارکنوں نے جنریٹرکے استعمال سے وائر پر گری چھت کو کاٹ کر ہٹادیا ہے۔ سنیچرسے لے کر آج اتوار تک سرکاری حکام کے مطابق قریب 30 مکانوں کو نقصان پہنچا ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔
بے قابو ہوتی ہوئی سمندر ی لہروں کو دیکھ کر جالی اور بندر کے سمندر کنارے رہنے والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ اس تعلق سے فی الحال دو ریلیف سینٹربھی قائم کیے گئے ہیں۔
بھٹکل بندر میں سمندری کٹاو سمیت دیگر نقصانات کا جائزہ لینے بھٹکل ایم ایل اے سنیل نائک نے سنیچر شام کو ہی جائےوقوع کا دورہ کیا اور ساحلی کنارے رہنے والوں کو بلندی پر واقع ایک اسکول میں منتقل ہونے کی ہدایت دی، انہوں نے اسکول میں مناسب انتظامات سمیت اپنی جانب سے کھانوں کا انتظام کرنے کا بھی یقین دلایا ہے۔
بھٹکل میں ایک ماہی گیر نے گنوائی جان: طوفان کا بڑا اثر جالی ساحل پر ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے اس علاقے کو 'ڈینجر زون' قرار دیا گیا تھا۔ جالی کوڈی میں جب طوفانی ہواوں کی وجہ سے سمندر میں جیسے اُبال آگیا اور اونچی لہریں ساحل کی طرف بڑھنے لگیں تو وہاں پر لنگرا انداز کشتیاں اپنی جگہ سے ہٹنے اور سمندر میں بہہ جانے کی نوبت آگئی۔ اس وقت مقامی ماہی گیروں نے اپنی اپنی کشتیاں محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگ گئے ۔ اس دوران لکشمن ایرپّا نائک (60سال) نامی ماہی گیر دو کشتیوں کے بیچ پھنس کر زخمی ہوگیا جس کی وجہ سے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ماوین کوروے بندر میں سمندری لہروں کی تیزی کی وجہ سے بندرگاہ میں لنگر انداز ماہی گیر کشتیاں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں جس سے ماہی گیروں کوکافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اُدھر تعلقہ کےمرڈیشور میں بھی طوفان اپنی پوری طاقت سے حملہ آور ہوا ہے اور یہاں پر کئی باکڑے سمندری لہروں پر تیرتی ہوئی پائی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مرڈیشور کے چھوٹے باکڑا والوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ مرڈیشور میں جس طرح موجوں نے باکڑوں کو کنارے کردیا، ایسالگ رہا تھا کہ سیلاب آگیا ہو اور زد میں آنےوالی تمام چیزوں کو اپنے ساتھ بہالے جارہا ہو۔ یہاں لوگوں کو ساحل پر لنگر انداز کشتیوں اور چھوٹے باکڑوں کو بچاتے ہوئے دیکھا گیا۔
دیگر تعلقہ کے حالات : ہوناور تعلقہ کے منکی ، پاوین کوروا، اپسر گونڈا کے علاقوں میں طوفان کی وجہ سے ساحل سے قریب رہنے والوں کو کافی دشواریاں پیش آئی ہیں۔ جبکہ کمٹہ تعلقہ کے ونلّی، ہولن گدے، فش مارکیٹ، چترنجن ٹاکیز جیسے علاقوں میں گھروں کے اندر پانی گھس آیا۔ ونلّی ساحل پر دیو قامت لہروں کا راج نظر آیا۔ جس سے خوفزدہ ہوکر ساحل سے قریب بسنے والے لوگ شہری علاقے میں منتقل ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کا ساز و سامان دوسرے محفوظ علاقہ والے گھروں میں منتقل کر دیا۔ گوکرن ساحل پر بھی طوفان کی شدت اسی طرح لوگوں کو خوف زدہ کرتی رہی۔
ہیسکام کو بھاری نقصان: بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ہیسکام کا کہنا ہے کہ اب تک 13 بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے ہیں جبکہ 4 ٹرانسفارمرس خراب ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی کو کل ایک دن کے اندر 4.48 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بھٹکل میں سنیچر کو رات بھر بجلی منقطع رہنے کے بعد آج اتوار صبح 11 بجے کے آس پاس دوبارہ بجلی بحال ہوئی ہے۔
جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع کی صورت حال: کل شب تک جنوبی کینرا اور اڈپی ضلع میں بھاری برساتیں ہوئیں جس سے تباہی مچ گئی ہے۔ منگلورو کے الال اور سومیشور سمندری کنارے پر بہت زیادہ کٹاو دیکھتے ہوئے تقریباً 65 خاندانوں کووہاں پر واقع ان کے گھروں سے نکال کر دوسرے مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ دونوں اضلاع میں کئی مقامات پر بڑے بڑے درخت اور بجلی کے کھمبے زمین سے اکھڑ گئے ہیں۔ بہت سارے علاقے زیر آب ہوگئے ہیں۔ جس سے عام زندگی تتر بتر ہوگئی ہے۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات منتقل کرنے اور راحت کاری کے لئے کشتیوں کا استعمال کیا جارہا ہے ۔
سمندر میں بہہ گئے گھر : منگلورو سے ملی خبر کے مطابق تیز ہواوں اور موسلا دھار برسات کے دوران سمندر میں اٹھنے والی اونچی اونچی موجوں نے اوچیلا میں ایک گھر اور سومیشور میں دو گھروں کو نگل لیا ہے۔ اس کے علاوہ منگلورو اور اڈپی ضلع کے بہت سارے علاقوں میں سمندری موجوں نے کناروں کو بری طرح کاٹ لیا ہے جس کی وجہ سے 50 سے زائد ناریل کے درخت زمین سے اکھڑ کر سمندر کا حصہ بن گئے ہیں، کانکریٹ کے سڑکیں بری طرح تباہ ہوگئی ہیں، جس کے بعد ان مقامات پر واقع مکانات کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔
طوفانی ہوا سے ماہی گیر کشتیوں کو نقصان: منگلورو میں الال اور سومیشور کے علاوہ اڈپی ضلع میں پڈوکیرے، مرونتے ، مٹو اور کنداپور تعلقہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ طوفانی ہواوں کی وجہ سے کل رات تک ملپے بندرگاہ میں لنگرانداز 8 سے زائد ماہی گیر کشتیوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ دیگر ماہی گیر اپنی کشتیوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
طوفان کی تیزی کو دیکھتے ہوئے مزید نقصانات ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ بیندور میں 4 خاندانوں کو اور کوڈی میں 60 افراد کو ریلیف سینٹر میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کنداپور میں 7 اور کاپ میں ایک خاندان کو ان کے رشتہ داروں کے ہاں منتقل کردیا گیا ہے۔ ایم ایل اے ونئے کمار سوراکے اور سوکمار شیٹی نے ریوینیو افسران کے ساتھ متاثرہ مقامات کا دورہ کیا ہےاور راحت کاری کے انتظامات کیے ہیں۔
گھروں میں پانی گھس آیا : پڈوکیری علاقے میں سمندری پانی گھروں کے اندر گھس آیا جبکہ ملپے بندرگاہ علاقے میں ماہی گیروں کے 60 سے زائد خاندان خطرناک صورت حال کا شکار ہوگئے ہیں۔ ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ نے متاثرہ علاقوں کو دورہ کیا اور ملپے ایلو موگویرا ہال میں لوگوں کے لئے ریلیف سینٹر کے انتظامات کیے اور خطرہ کی زد میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات اور ریلیف سینٹرس میں منتقل ہونے پر آمادہ کیا۔ بارکور سے ملی اطلاع کے مطابق وہاں پر طوفانی ہواوں اور بارش نے بڑی تباہی مچائی ہے۔ کاپ تعلقہ میں طوفان نے ایک شخص کی جان لی ہے جبکہ برہماور میں 4، بیندور میں 3 اور اڈپی میں ایک گھر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔